
فوٹو: فائل
پشاور: دنیا بھر میں بدعنوانی کے خاتمے اور شفافیت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا نے شفاف طرز حکمرانی میں پنجاب اور سندھ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی مجموعی گورننس اور سروس ڈیلیوری دیگر صوبوں کے مقابلے بہتر رہی۔
خیبر پختونخواپولیس میں رشوت کا رجحان بیس فیصد جبکہ پنجاب میں 34 فیصد، سندھ میں 21 فیصد اور بلوچستان میں 22 فیصد رہی۔
رشوت اور کرپشن کا تاثر بھی خیبر پختونخوا میں کم رہا۔
رپورٹ کے مطابق ملکی سطح پر 66 فیصد شہریوں نے کہا کہ ہمیں عوامی خدمت تک رسائی میں رشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں ائی جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 20 فیصد رہی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 40 فیصد پاکستانی جزوی طور پر جبکہ 18 فیصد مکمل طور یہ یقین رکھتے ہے کہ ائی ایم ایف پروگرام سے پاکستانی معیشیت بہتر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں نے معلومات تک رسائی، احتساب اور شفافیت میں کمی کو کرپشن کے اہم وجوہات قرار دیے۔
یاد رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل ہر سال شفافیت اور بدعنوانی کے متعلق رپورٹس شائع کرتی ہے۔











