
فوٹو؛ ایل ایس نیوز
قبائلی ضلع اورکزئی میں معذور افراد کو آج کے دور میں بھی وہ بنیادی سہولیات میسر نہیں جن کا وعدہ ریاست نے ان کے ساتھ آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کیا تھا۔ نہ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر موجود ہے، نہ سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے لیے مختص کوٹہ پر عمل درآمد ہوتا ہے، اور نہ ہی ان کے فلاحی ادارے یا معاونتی پروگرام کسی عملی شکل میں نظر آتے ہیں۔
صدر نیک بادشاہ، جو کہ “نامعذور افراد یونین اورکزئی” کے صدر ہیں، نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ، “ہم نے کئی بار ڈپٹی کمشنر، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ذمہ دار اداروں سے رابطہ کیا مگر کسی نے ہماری سنوائی نہیں کی۔ معذور افراد کو نہ تعلیم کا حق دیا جا رہا ہے، نہ روزگار میں ان کا کوئی حصہ رکھا جا رہا ہے۔
تعلیم سے محرومی
ضلع اورکزئی میں کوئی مخصوص اسپیشل ایجوکیشن سکول موجود نہیں جہاں جسمانی، ذہنی یا بصری معذوری کے شکار بچوں کو ان کی ضروریات کے مطابق تعلیم دی جا سکے۔ نیک بادشاہ کے مطابق، “بچے گھر پر بیٹھے ہیں کیونکہ عام سکولوں میں نہ ان کے لیے سہولیات ہیں، نہ اساتذہ کو اسپیشل ایجوکیشن کی تربیت دی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ، “ہم نے کئی بار اسپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دی کہ یہاں ایک ادارہ قائم کیا جائے، لیکن ہمیشہ یہی جواب ملا کہ فنڈز نہیں یا ترجیحات میں شامل نہیں۔
سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظرانداز
پاکستان میں قانوناً معذور افراد کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کم از کم 2 فیصد کوٹہ مختص ہے، مگر اورکزئی میں اس قانون پر عملدرآمد ناپید ہے۔
نیک بادشاہ نے کہا کہ، “ہمارے علاقے میں کئی معذور نوجوان تعلیم یافتہ ہیں، لیکن جب وہ نوکری کے لیے اپلائی کرتے ہیں تو انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ نہ انہیں معذور کوٹہ پر رکھا جاتا ہے، نہ کوئی متبادل موقع دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اس بارے میں محکمہ سوشل ویلفیئر اور دیگر اداروں سے بات کی تو یا تو لاعلمی ظاہر کی گئی یا یہ کہا گیا کہ کوٹہ پر بھرتیاں ضلعی سطح پر نہیں ہوتیں۔
مالی و فلاحی امداد کی عدم دستیابی
نیک بادشاہ کے مطابق، “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام یا کسی بھی قسم کی مالی امداد سے معذور افراد کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثر کو رجسٹر بھی نہیں کیا جاتا، اور جن کو کارڈ ملتا ہے، وہ بھی کئی مہینوں تک رقم کے انتظار میں ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ معذور افراد کے لیے ویل چیئرز، واکر، یا دیگر معاون آلات کی بھی عدم دستیابی ہے۔ “ہم میں سے کچھ کو خیراتی اداروں یا ذاتی کوشش سے سہولیات ملی ہیں، لیکن حکومت نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔
خواتین معذور افراد کی دوہری محرومی
نیک بادشاہ نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ معذور خواتین کو دوہری محرومی کا سامنا ہے۔ “نہ ان کے لیے کوئی مخصوص پروگرام ہیں، نہ معاشرہ انہیں قبول کرتا ہے۔ نہ تعلیم، نہ صحت کی سہولیات، نہ تحفظ۔
مطالبات اور اقدامات
صدر نیک بادشاہ اور ان کی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ
ضلع اورکزئی میں فوری طور پر اسپیشل ایجوکیشن سینٹر قائم کیا جائے۔ سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ معذور افراد کی رجسٹریشن اور مالی معاونت کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جائے۔معذور خواتین کے لیے علیحدہ پالیسی ترتیب دی جائے۔ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو متحرک کیا جائے اور ضلعی سطح پر معذور افراد کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔
حکومت کی خاموشی
اس تمام تر صورتحال میں متعلقہ حکومتی ادارے یا تو خاموش ہیں یا لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ جب ہم نے اس بارے میں ضلع انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا، مگر عملی طور پر کوئی قدم تاحال نہیں اٹھایا گیا۔
