
فوٹو : سوشل میڈیا
پشاور: سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے منگل کے روز بہنوں اور وکلا کے ذریعے اڈیالہ جیل سے اپنے پیغام میں کہنا تھا عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں “ہارڈ سٹیٹ” کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ بلکل غلط ہے-عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام نا ممکن ہے
عمران خان نے خیبر پختونخوہ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہا کہ عوام نے تحریک انصاف کو بھر پور منڈیٹ دیا ہے- اس منڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کے صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کرو، کیونکہ میں براہ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبر پختونخوہ سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا مگر رجیم چینج کے بعد سے حلات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی نے پاک افغان صورتحال سے متعلق کہا کہ تین سال سے کہتا آیا ہوں کہ دانشمندی اور دوراندیشی سے کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہئیں۔افغانستان کے ساتھ کشیدہ صورتحال نہایت تشویش ناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوامکی حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیر پا حل نکل سکتا ہیں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بجھ کر لٹکایا جارہا ہے۔القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے دس ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بالا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، جبکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیاجاتا تھا۔اس کی برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔











