عمران خان کی سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ پر مبارکباد، پے رول رہائی کے بعد افغانستان سے تنازعات کے حل اور امن کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش

فوٹو فائل

سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل سے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کی اور گنڈاپور کی باوقار طریقے سے حکومت منتقلی پر خوشی کا اظہار کیا ، اور کہا کہ گزشتہ دو سال میں ہونے والے قتل عام کے خلاف تمام کارکنان احتجاج کے لیے نکلے ۔

‎عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ ساتھیوں میں سے ہیں ، مجھے امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظرئیے کے عین مطابق خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے ، مجھے خوشی ہے کہ علی امین گنڈاپور نے حکومت کی منتقلی باعزت طریقے سے یقینی بنائی ۔

‎سابق وزیر اعظم نے کہا میں گزشتہ دو سال میں ہونے والے چار بڑے واقعات جن میں 9 مئی ، 26 نومبر ، آزاد کشمیر اور مریدکے کے قتل عام پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتا ہوں ، اگر صاف شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو خدانہ خواستہ اگلا واقعہ اس سے بھی بڑا ہوگا کیونکہ ظلم و بربریت میں مزید اضافہ ہورہا ہے ۔

‎عمران خان نے ایک بار پھر آرمی چیف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سب کچھ عاصم لاء کے تحت ہورہا ہے۔ ساری عدالتیں فوجی عدالتوں میں تبدیل ہوچکی ہیں ، 26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے انصاف کی توقع تقریباً ختم ہوچکی ہے ۔

‎انہوں نے واضح کیا کہ عاصم منیر ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کرکے فارم 47 کی نااہل حکومت پاکستان پر مسلط کی ، جن کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل سے نکلنے کا کوئی حل نہیں ۔

‎ افغانستان سے بگڑتے ہوئے تعلقات پر کہا کہ ملٹری ڈکٹیٹر کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولا کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا ، اور اب افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے ، انہوں نے بتایا اگر مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تو میں افغانستان سے تنازعات کے حل اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہوں ۔

متعلقہ خبریں۔