پاک افغان عارضی جنگ بندی خوش آئند عمل ہے ، افغانستان میں دہشتگرد گروہوں پر حملے کرنا مشکل ترین مرحلہ ہوگا خواجہ سعد رفیق

فوٹو : سوشل میڈیا

‎سینئیر سیاستدان خواجہ سعد رفیق نے پاک افغان عارضی سیز فائر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان قیادت خطے کے بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں ہمسایہ اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ مستقل بنیادوں پر برادارنہ تعلقات استوار کرے ، اور ایک دوسرے کے شکایات کا ازالہ کیا جائے ۔

‎انہوں نے کہا کہ سیز فائر کو مستقل ہونا چاہیے تاہم اس کے لیے افغان حکومت کو اپنی ” لاڈلی ٹی ٹی پی” کے ذریعے ہم برادر اسلام کی پاکستان میں برآمد اور ہمارے پہلو میں ہندوستان کی سہولت کاری بند کرنا ہوگی ۔

‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ امریکی سپر پاور کو شکست دینے والے بہادر اور طاقتور لوگ اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہیں روک سکتے ۔

‎ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان تعلقات کا دارومدار ایک دوسرے کی خود مختاری کے احترام سے مشروط ہے ، ہر پاکستانی افغانستان کی خوشحالی ، ترقی اور سلامتی کا خواہاں ہے ، کیونکہ مستحکم افغانستان ، پاکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے تعلیمی ادارے ، اسپتال اور دیگر سہولتیں افغان بھائیوں کے لیے ہمیشہ دستیاب رہی ہیں ، اور ان میں کبھی اجنبیت محسوس نہیں کی گئی ۔

‎خواجہ سعد رفیق کے مطابق یقیناً افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کے ٹھکانوں پر حملے کرنا کا فیصلہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہوگا ، لیکن پاکستان کو اپنی خودمختاری کے لیے ایسا کرنا پڑا ۔

متعلقہ خبریں۔