دو ہزار پچیس دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال رہا ہے۔ عمران خان

فائل فوٹو

پشاور: بانی پی ٹی آئی نے جمعرات کے روز اڈیالہ جیل سے اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 2025 دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبر پختونخوہ کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیر اعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنا ئیں گے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوہ کے حالات کے تناظر میں وزیر اعلی کی تبدیلی ناگزیر تھی، یہ ایک آئینی عمل ہے جو دوسروں صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے۔ کہا اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چائیے تا کہ یہ عمل کس از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو بھر پور احتجاج ہوگا۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالبعلمی سے ان کی آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔علی امین میرے وفادار ساتھیوں میں سے ہے لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض حلقے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد اثر انداز نہیں ہوا۔

بانی دہشتگردی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور میں دہشتگردی پر بہت حد تک قابو پالیا گیا تھا۔ تحریک انصاف نے اس وقت بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مزاکرات کیے اور قبائیلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔

دہشتگردی کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دو ٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹی آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمیج” عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں۔