
فوٹو: سوشل میڈیا
سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچنے کے بعد جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی لوگوں کی احتجاج ہماری رہائی ممکن ہوئی ، اانہوں نے بتایا جیل میں اسرائیلی قانون اور ڈیپورٹیشن پر دستخط کا کہا گیا لیکن میں نے صاف انکار کردیا ۔
سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کا رابطہ ہوا تھا لیکن ان کی دلچسپی میری رہائی سے زیادہ ڈیپورٹیشن پیپر پر دستخط کروانے میں تھی ۔
مجھے دو مرتبہ اسرائیلی جج کے سامنے پیش کیا اور بتایا تم نے قانون کی خلاف ورزی کی ہےدستخط کردو باقی 70 فیصد لوگوں نے بھی کردئیے ہیں اگر نہیں کروگے تو چارج شیٹ دے کر آپ کی ہڈیاں گل سڑ جائیں گی ، میں نے جواب دیا کہ دستخط کرنا اسرائیل کو تسلیم کرنے مترادف ہے ، اور یہ میں کسی صورت نہیں کروں گا ۔
مشتاق احمد نے کہا ہماری رہائی کا اصل کریڈٹ یورپ کے عوام کو جاتا ہے جنہوں نے وہاں کی مارکیٹیں ، بندرگاہیں بند کردی تھیں اور پرامن مظاہرے شدت اختیار کر رہے تھے ، اسی دباؤ کے باعث اسرائیل نے مجبور ہو کر ہمیں رہا کیا ۔
انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی کے حوالے سے کہا کہ میں نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے سفر کے دوران جماعت اسلامی سے 19 ستمبر کو استعفیٰ دے دیا تھا لیکن مجھے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور عزت و احترام کا رشتہ اب بھی قائم ہے ، تاہم میں آئین کی بالادستی ، اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوریت کے لیے کھل کر کام کرنا چاہتا ہوں ، کیونکہ سیاسی پارٹیوں میں عمل کی آزادی بہت محدود ہوتی ہے ۔ اور میں غیر معمولی انداز سے حرکت کرنا چاہتا ہوں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب میں ماہرنگ بلوچ ، علی وزیر اور منظور پشتون سے ملنا چاہتا ہوں ، اور چاہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کہ جیل میں فری ٹرائل کا موقع ملے ، اور ان سے بامعنی مذاکرات ہو ، تاکہ پاکستان امن کا مرکز بن سکے ۔











