
فوٹو: سوشل میڈیا
صحافی و تجزیہ کار مطیع اللہ جان نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ عوامی مزاحمت کو پاکستان کے لیے سبق قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور ان کے مینڈیٹ کو کوئی نہیں دبا سکتا ۔
ان کے مطابق مزاحمت سے حاصل ہونے والے کئی اسباق سامنے آئے ہیں ۔
اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
عوامی احتجاج کو سنبھالنے کے لیے کٹھ پُتلی سیاستدان نہیں بلکہ اصل نمائندے درکار ہوتے ہیں ۔
ہر مسئلے کا حل فوج کے ذریعے ممکن نہیں ۔
عوامی مینڈیٹ دریا کے پانی کی طرح ہے جو بالآخر اپنی راہ خود بنا لیتا ہے ۔
سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے عوامی بے چینی ختم نہیں ہوتی ۔
اگر ووٹ کے ذریعے ممکن نہ ہو تو عوام سڑکوں پر نکل کر بھی آئینی ترمیم کرواسکتے ہیں ۔
عوامی مینڈیٹ چرانا کسی علاقے پر مسلح قبضے سے کم نہیں ۔
جمہوریت اور مکالمہ ہی تمام مسائل کا پائیدار حل ہیں ۔
وہ رہنماء جس کے پیچھے عوام کھڑے ہوں، اسے قید کرنا ممکن نہیں ۔
بیلٹ بکس کی طاقت گولی کو بھی شکست دے سکتی ہے ۔
اصل اہمیت کسی مقصد سے وابستگی کی ہے ، سیاسی جماعتوں میں بڑوں عہدوں کی نہیں ۔
پولنگ اسٹیشن پر چرایا گیا مینڈیٹ عومی سڑکوں پر اصل مینڈیٹ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوتا ہے ۔
یہ اس موقع پر کہا جب پاکستان کی وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی دنوں کے مزاحمت کے بعد سارے مطالبات تسلیم کئے ۔











