اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے ولا وقت تباہ کن ہوگا۔

فوٹو: سوشل میڈیا

پشاور( ایل ایس نیوز ) سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بدھ کو آڈیالہ جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشیت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔

بانی نے گندم سکینڈل کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ گندم کا اتنا بڑا سکینڈل ہو یا توشہ خانہ سے گاڑیاں نکلیں لیکن کو پوچھنے والا نہیں ہوتا کیونکہ یہ سب عاصم لاء کے کرامات ہیں ۔ اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بے بنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عمران خان نے اپنے اوپر کیسز کے حوالے سے کہا کہ میرے خلاف توشہ خانہ ، سائفر ، اور القادر جیسے جھوٹی کیسز بنائے گئے ، توشہ خانہ کو عدالتوں میں تیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ سائفر، جو پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس تھا وہ ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم رہنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے لیکن اس پر بھی بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا۔

سابق وزیر اعظم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بیان کرتے ہوے کہا کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن مگر ظلم کا نہیں “ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں۔