
فوٹو: ایل ایس نیوز
پشاور ( ایل ایس نیوز ) پشاور ہائی کورٹ میں رہنما پاکستان تحریک انصاف عمر ایوب نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوے انکشاف کیا کہ مالی سال 25-2024 کے آڈ یٹ رپورٹ میں مجموعی طور پر 366کھرب روپے کی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔
عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ بعد میں اسے ٹیپنگ غلطی کا نام دے دیا گیا اور صرف 10 کھرب روپے کی بدعنوانی مانی گئی جو کہ وفاقی حکومت کے 16 کھرب بجٹ کا حصہ ہے۔
پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ میری یا لطیف چترالی کی کرپشن نہیں موجودہ کابینہ کی کرپشن ہے، دس کھرب کو آپ غلطی قرار دے سکتے ہے 366 کھرب کو نہیں-
انہوں نے کہا کہ اتنی بدعنوانی چھپانے کے لیے ن لیگ حکومت نے ہمارے صوبے میں سیکورٹی حالات خراب کئے۔
اس موقع پر عمر ایوب نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور چئیر مین نیب سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان 366 کھرب کی بدعنوانی کی انکوائری کرے ۔
معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چوتھا سال ہے لیکن ہماری جی ڈی پی منفی جارہی ہے ، اور ہر سیکٹر میں اسمگلنگ بڑھ گئی ہے ۔
سابق اپوزیشن لیڈر نے بتایا کہ جج صاحبان بھی عدلیہ کے چیف کو عدم استحکام کے باعث خطوط لکھنے پر مجبور ہیں جبکہ سرگودھا اور فیصل آباد کے عدالتوں نے پی ٹی آئی کے کیسس میں مختلف فیصلے سنائے ہیں ۔










