عمران خان کا آرمی چیف عاصم منیر پر سخت تنقید ، میرا سول نہیں بلکہ ملٹری ٹرائل چل رہا ہے ،

فوٹو: فائل

عمران خان نے اڈیالہ جیل میں اپنی فیملی سے ملاقات کے دوران ایک بار پھر فیلڈ مارشل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ کسی ڈیل کے بغیر جیل سے باہر آئیں گے۔ انہوں نے افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کے قیام کے لیے مذاکرات کی تجویز بھی دی ۔

‎سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرا سول نہیں بلکہ ملٹری ٹرائل ہورہا ہے جو کہ آئی ایس آئی کا ایک کرنل چلا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ عاصم لاء کے تحت قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ، وہ  300 سے زائد مقدمات کا سامنا کررہا ہے انہوں نے موقف اپنایا کہا کہ وہ ڈیل کئے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آئیں گے ۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اور اہلیہ بشریٰ بی بی کے تمام انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں ، حتیٰ کہ عام قیدیوں والی سہولتیں بھی نہیں دی جاتیں ، کتابیں روک لی جاتی ہیں اور آٹھ ماہ میں ایک بار بچوں سے بات کروائی گئی ، عمران خان نے اپنی پارٹی کو پیغام دیا کہ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا ۔

‎عمران خان نے کہا افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ نو مئی کی طرز پر فالس پلیگ رچایا جارہا ہے ، عاصم منیر کو چارج ملنے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر خراب کئے گئے ، تاکہ افغان مخالف لابی کو خوش کیا جاسکے اور افغان حکومت کو جنگ پر اکسایا جائے  پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم لوگوں کو دھکے مار کر نکالا گیا ۔

‎انہوں نے کہا اس کے  بعد افغان سرزمین پر حملے کئے گئے اور پھر یہ جواز پیش کیا گیا کہ دہشتگرد آگئے ہیں ، جس پر قبائلی اضلاع میں آپریشن شروع کردیا گیا  ، عمران خان کے مطابق ان پالیسیوں سے ہمارے پولیس اہلکار ، فوجی اور بے گناہ لوگ شہید ہورہے ہیں ، جبکہ اس رویے سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا ، پائیدار بات چیت کے ذریعے ہی امن ممکن ہے ۔

‎آخر میں بانی پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے تمام عہدیداران سمیت وزیر اعلیٰ کو ہدایت دی کہ وہ ایک ساتھ بیٹھ کر صوبے کے مسائل کا جلد ازجلد حل نکالیں ۔

متعلقہ خبریں۔