
فوٹو: سوشل میڈیا
کوہاٹ: گزشتہ دنوں کے ڈی اے ہسپتال کے قریب عثمان مسجد کے نزدیک رات تقریباً 8 بج کر 5 منٹ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے لیڈی ڈاکٹر مہویش جاں بحق ہو گئی تھیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا۔
مقتولہ کے شوہر محمد حسنین، سکنہ کے ڈی اے، نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اس بیان کی روشنی میں پولیس نے کیس کو جدید تفتیشی خطوط پر استوار کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی وزیر صحت نے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی اور ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کی ہدایات جاری کیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جن میں ایس پی سٹی، ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، انویسٹی گیشن اسٹاف اور ایس ایچ او تھانہ کے ڈی اے سمیت آپریشن اور انفارمیشن یونٹس شامل تھے۔ پولیس ٹیموں نے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ ذرائع کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کر لیا۔
کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ، موٹر سائیکل اور رکشہ بھی برآمد کر لیا گیا۔
تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمان حیات گل ولد رضیم گل اور سیف علی ولد سید علی، ساکنان گمکول کیمپ، اس واردات میں ملوث ہیں۔ بعد ازاں صوبے کے مختلف اضلاع میں چھاپوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے حیات گل ولد دیر زین گل اور سیف علی ولد سیف خان، سکنان گمکول نمبر 3 کو گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم حیات گل کی لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زبانی تکرار ہوئی تھی، جس کی رنجش میں ملزمان نے طیش میں آ کر فائرنگ کی اور انہیں قتل کر دیاـ
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان مکمل کر کے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔






