ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر سہیل آفریدی کا سخت ردعمل، ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں

فوٹو: فائل

گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہونے والے پریس کانفرنس کے جواب میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کے پی میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کئے جا چکے ہیں لیکن دہشتگردی کا خاتمہ نہ ہوسکا ۔

‎وزیر اعلی سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے کہا کہ وہ پاکستان کا سب سے مقبول ترین اور قبول ترین لیڈر ہیں اور پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے ، پاکستان تحریک انصاف نے دہشتگردی کے جنگ میں بھاری قیمت ادا کیا ہے ، ہمارے عہدیداران اور ہمارے وزراء نشانہ بنیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی غیر ذمہ دارانہ بیانات سابق وزیراعظم اور مقبول ترین جماعت کے خلاف نہ صرف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ سیاسی جماعت کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہے جوکہ خطرناک سوچ کی عکاس ہے ۔

‎ملٹری آپریشن کے حوالے سے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کرتے ہیں ، اس بات پر سارے سیاسی جماعتیں بھی متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ، ریاست دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ نہیں کیونکہ فیصلے زمینی حقائق کے برعکس اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کئے جارہے ہیں ، خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدم تحفظ ، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں ۔

‎سہیل آفریدی نے ملٹری آپریشنز کے حوالے سے کہا کہ پختونخوا میں 22 بڑے ملٹری آپریشنز جبکہ 14000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوئیں لیکن امن قائم نہیں ہوسکا ، ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہوچکی ہے ۔

‎انہوں نے کہا کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود مسلح لوگوں کو داخل ہونے دیا گیا ، اور دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود ایک صوبے کے عوام کو غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے مورد الزام ٹھہرانا ہمارے شہداء اور ان کی لواحقین کی قربانیوں کا توہین ہیں ، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

‎انہوں نے بدامنی کے مسلے کا دیرپا حل نکالنے کے حوالےسے کہا کہ پریس کانفرنس اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے اور فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسی کے تحت کیے جائیں ۔

متعلقہ خبریں۔