
فوٹو: ریوٹرز
سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد کے مطابق چین عالمی آٹو موبائل صنعت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور رواں سال چار ملین سے زائد گاڑیاں برآمد کرے گا ، جن میں الیکٹرکٹ اور پیٹرول سے چلنے والی دونوں اقسام شامل ہیں ، ان کے مطابق یہ پیش رفت یورپی کارساز صنعت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے ۔
زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ چین نے مشرق وسطی اور ایشیا میں یورپی برانڈز سے بڑی مارکیٹ حاصل کرلی ہے ، اور اب یورپ کی منڈی میں بھی تیزی سے اپنی جگہ بنارہا ہے ، ان کے مطابق چین نے مغربی ڈیزائنز اور مینوفیکچرنگ طریقوں کو اپنا کر اس وقت تقریباً دس مختلف برانڈز متعارف کرا دیے ہیں جو کہ کم قیمت کی گاڑیوں سے لے کر خودکار نظام کی حامل لگژری گاڑیاں بھی شامل ہیں ۔
زلمے خلیل زاد نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھتے ہوئے کہا اس صورت حال میں یورپ کے پاس اپنی آٹو انڈسٹری کو بچانے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ، انہوں نے مزید لکھتے ہوئے کہا یورپ کو دو فیصلوں کا سامنا ہے ، ایک طرف چینی کاروں پر ٹیرف عائد کرنا جبکہ دوسری طرف چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے تحت اپنی کارساز فیکٹریاں مقامی سطح پر چینی کاروں کے تیاری کے لیے فراہم کرنا ۔
سابق سفارتکار کے مطابق دونوں اختیارات میں چینی کاروں پر سخت ٹیرف عائد کرنا کم نقصان دہ فیصلہ ہے ، ان کا کہناہے کہ اب یورپ اپنی تحفظ میں تاخیر کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اقدامات کرتے ہیں یا نہیں ۔










