
فوٹو : ایل ایس نیوز
پشاور : درخواست میں وفاقی حکومت ، ایف آئی اے اور چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے موسیقی کے خلاف مکمل پابندی کا اعلان کررکھا ہے ۔ جس کے باعث ان کے لیے وہاں رہنا ناممکن ہوچکا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزاران گلوکار ہیں جو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد جان کے خوف کے باعث اپنے خاندانوں سمیت افغانستان سے پشاور پشاور منتقل ہوئے ۔
فنکاروں نے موقف اپنایا کہ وہ یو این ایچ سی آر کے پاس باقاعدہ رجسٹرڈ مہاجرین ہیں 1993 میں یو این ایچ سی آر نے پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو مہاجر کا درجہ دیا تھا جو اب بھی نافذ العمل ہے ۔ جبکہ 2003 میں طے پایا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن تک افغان مہاجرین پاکستان میں قیام کرسکیں گے ۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کسی بھی فرد کو زبردستی ملک بدر نہیں کرسکتا اور حکومت پاکستان ملک میں موجود ہر ملکی یا غیر ملکی شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کے پابند ہے ۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کے باوجود افغان مہاجرین کی زبردستی انخلاء جاری ہے ، لہذا عدالت افغان مہاجرین کی گرفتاری اور جبری بے دخلی کو روکنے کے احکامات جاری کرے ۔










