پاکستان کی جانب سے عجلت میں کی گئی آئینی ترمیم سے احتساب کمزور ہوکا، اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک۔

فوٹو: سوشل میڈیا

پشاور: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جمعے کے روز ایک بیان میں 27 آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ “پاکستان کی جانب سے عجلت میں کی گئی 27 آئینی فوجی احتساب، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔

فولکر ترک نے کہا کہ 27 آئینی ترمیم گزشتہ سال کی 26 آئینی ترمیم کی طرح وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی۔

انسانی حقوق کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ 27 آئینی ترمیم سے ایک نئے فیڈرل کونسٹیٹوشنل کورٹ ( ایف سی سی) کو آئینی مقدمات پر مکمل اختیار دیا گیا، ججوں کی تقرری اور تبادلے کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی جس سے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کمزور ہوسکتی ہے۔

ترمیم میں صدر، فیلڈمارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے لیے تاحیات یا عمر بھر کا استثنیٰ بھی دیا گیا۔

ہائی کمشنر نے کہا یہ تمام تبدیلیاں مل کر عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامیہ کے تابع کرنے کے خطرات کو بڑھا تھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے تشویش ہے کہ یہ ترمیم ان اصولوں کے لیےخطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے جنھیں پاکستانی عوام عزیر رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں۔