پاکستان میں نہ شہری ، نہ پارلیمنٹ اور نہ ہی سپریم کورٹ بااختیار ہیں ،  یہاں صرف عسکری حکومتیں ہیں ۔ ‎

فوٹو: سوشل میڈیا

ماہرنگ بلوچ نے عدالت میں پیشی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر کوئی ادارہ بااختیار نہیں ، صرف عسکری حکومتیں ہیں ،  بلوچستان میں چاہے مرد ہوں یا خواتین سب جبر کا شکار ہیں ۔

‎بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کے رہنما نے کہا بلوچستان میں جبر کا دائرہ کار کسی ایک فرد یا قوم تک محدود نہیں ،  بلوچستان میں جنسی اعتبار سے مرد اور خواتین دونوں ریاستی جبر کا نشانہ بن رہے ہیں ۔

‎انہوں نے انکشاف کیا کہ پہلے بلوچستان کے دیہات اور گاؤں میں خواتین جبری طور پر لاپتہ ہوجاتی تھیں ، لیکن ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے یہ خبریں میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتیں ، اب کوئٹہ شہر سے ماجبیں نامی معذور طالبہ کو تین ماہ کے زائد عرصے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے ۔

‎پاکستانی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدالتیں لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتیں ، کیونکہ یہاں پر صرف عسکری حکومتیں ہیں جہاں نہ سپریم کورٹ اور نہ ہی پارلیمنٹ با اختیار ہے ۔

‎ماہرنگ بلوچ نے بتایا ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں ، ہم اس کے لیے مسلسل جدو جہد کررہے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور باشعور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ جبری گمشدگی جیسے سنگین جرم پر آواز اٹھا کر ہمارا ساتھ دیں ۔

‎یاد رہے کہ ماہرنگ بلوچ  سمیت بی وائی سی کی دیگر رہنماؤں کو ایم پی او تحت کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ۔ اب ان پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر پولیس کی کریک ڈاؤن کے دوران مارے گئے تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بھی نامزدگی ہوئی ہے ۔

متعلقہ خبریں۔