
فوٹو : سوشل میڈیا
پاکستان کے معروف موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے جیو نیوز کے شو جرگہ میں سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غصہ بڑھنے کی بنیادی وجہ ڈپریشن یا بے چینی ہوتی ہے اکثر اوقات اس کے پیچھے بے بسی یا ماضی کے تلخ تجربات کار فرما ہوتے ہیں ۔
سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے علاوہ تمام اسپتالوں کی او پی ڈیز میں سب سے زیادہ مریض ڈپریشن کے آتے ہیں ، دوسرے نمبر پر بے چینی اور تیسرے نمبر پر غصہ کرنے والے افراد ہوتے ہیں ، ان کے مطابق واقعات بعض اوقات مایوسی اور والدین کے درمیان ناچاقیاں پوری شخصیت کو متاثر کردیتی ہیں ۔
انہوں نے انٹرویو میں غصے کے حوالے سے کہا کہ دنیا کا خوش قسمت انسان وہ ہے جسے یہ احساس ہو کہ اسے غصہ آتا ہے ، کیونکہ اگر کسی شخص کو غصہ تو آتا ہے لیکن اسے اس کا شعور نہیں ، تو یہ اس کے لیے خطرناک بات ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں تربیت دینے والے (ٹرینرز) نہیں بہت کم ہے ، ایسے افراف نہ ہونے کے برابر ہیں ، جو دوسروں کی بات سنیں ، ان کی تلخی برداشت کریں اور ان کے رازوں کو راز رکھیں ۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ لوگ ایک دوسرے کو بھوک اور غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ ذہنی بیماریوں کی وجہ سے نقصان پہنچاتے ہیں ، ریاست مدینہ کے مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں معاشی نہیں بلکہ فکری اور ایمانی انقلاب آیا تھا ، اور اگر آج لوگ ذہنی طور پر مضبوط اور شکر گزار ہوجائیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں ۔


