
فوٹو: سوشل میڈیا
عمران خان نے اڈیالہ جیل میں اپنی فیملی سے ملاقات میں کہا کہ عاصم منیر کو طاقت کی بہت بھوک ہے ، فسطائیت میں میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن چاہے جسے مرضی جیل میں ڈال دو میں جھکوں گا نہیں ۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے بتایا مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے ۔ ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے ۔ اسی لیے ٹرمپ نے وزیر اعظم کے بجائے عاصم منیر سے ملاقات کی ۔
انہوں نے کہا کہ جبر اور فسطائیت کی تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو اغواء کیا جارہا ہے ۔ میرے دو بھانجے شاریز اور شیرشاہ کو اٹھا لیا گیا ۔ مجھے اور میری اہلیہ بشری بیگم کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ، ایسا ظلم یحییٰ خان کے دور میں بھی نہیں ہوا ۔
ان کا کہنا تھا کہ عاصم منیر کو جب ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشری بی بی سے ملاقات کے لیے پیغام بھیجا مگر انہوں نے انکار کیا اسی لیے ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے ، اور ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے ۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کررہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ، ملک میں عدلیہ تباہ ، میڈیا خاموش اور پولیس کو تحریک انصاف کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے ، پاکستان میں بے روزگاری عروج پر ہے ایس آئی ایف سی سے معیشت ٹھیک نہیں ہوگی یہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ہی بہتر ہوسکتی ہے ۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کیا گیا جن کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود آئی ایس آئی دیتی رہی ہے ، جب بھی ڈکٹیٹر شپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی قابض ہوتی ہے اس وقت ملک میں بے ضمیر ججز کی وجہ سے قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہوچکی ہے ، اگر ججز کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللّٰہ کو حساب دینا ہے تو ظلم نہ ہوتا اس میں ججز برابر کے مجرم ہیں ۔







