فلسطین کے متعلق امن معاہدہ کی حمایت،اسد عمرکا شہباز شریف پر سخت تنقید، معاہدے سے متعلق اہم سوالات اٹھا دئیے۔

فوٹو : سوشل میڈیا

پشاور( ایل ایس نیوز ) گزشتہ دنوں ٹرمپ کے فلسطین سے متعلق امن معاہدہ کی حمایت کرنے پر پی ٹی آئی کے سابق رہنما اسر عمر نے شہباز شریف پر سخت تنقید کرتے ہوئے معاہدے سے متعلق شہباز شریف سے اہم سوالات کے جوابات مانگ لئے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ایک مختصر بیان کے ذریعے پاکستان کی کئی دہائیوں پرانی فلسطین سے متعلق پالیسی کی بنیاد کوبدل دیا اور ٹرمپ پالان کے حمایت کردی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف نے کسی قومی بحث اور مینڈیٹ کے بغیر کیا۔

اسد عمر نے معاہدہ سے متعلق شہباز شریف سے چند اہم سوالات اٹھائے

1) انہوں نے سوال اٹھایا کہ پلان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کو “ڈی ریڈیکلائز” کر کے دہشت گردی سے پاک زون بنایا جائے گا۔ یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ اسرائیل بھی ایسا کرے، جو دنیا کا سب سے زیادہ انتہا پسند ملک ہے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

2) اسرائیلی یرغمالیوں کو فوراً رہا کرنے کی شرط رکھی گئی ہے، لیکن اسرائیل نے انخلا غیر معینہ مدت اور مراحل میں کرنا ہے۔ اسرائیل کی ہر امن معاہدہ توڑنے کی تاریخ دیکھتے ہوئے اس پر کیوں اعتماد کیا جا رہا ہے اور اسے فوری انخلا پر مجبور کیوں نہیں کیا گیا؟

3)آپ 20 لاکھ سے زیادہ آبادی، جن میں سے کئی بھوک سے موت کے دہانے پر ہیں، کے لیے صرف 600 ٹرک یومیہ امدادی سامان پر کیسے راضی ہو گئے؟ جبکہ یہ سطح جنوری 2025 کے معاہدے میں طے ہونے کے باوجود اسرائیل نے اب تک یہ بھی پوری نہیں ہونے دی۔

4) غزہ کے لیے امریکہ کی نگرانی میں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت!!! دنیا کو تو جمہوریت کے لیکچر اور غزہ کے لیے عملی طور پر ایک نوآبادیاتی ٹیکنوکریسی کیوں؟

5) حماس کا غزہ میں کوئی کردار نہیں ہو گا لیکن نیتن یاہو، جس نے گزشتہ سال 5 خودمختار ممالک پر حملے کیے اور 66,000 سے زائد غزہ کے شہریوں کو شہید کیا، جن میں 20,000 سے زائد بچے بھی شامل ہیں، وہ بدستور برسر اقتدار رہ سکتا ہے؟

6) جب تعمیر نو آگے بڑھے گی تو ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر فلسطینی ریاست کی راہ ہموار ہو!!! یعنی دہائیوں تک دو ریاستی حل نہیں اور شاید کبھی بھی نہیں۔ آپ اس غداری کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں؟

7) غیر قانونی اسرائیلی بستیاں ختم کرنے اور انخلا کے بارے میں ایک لفظ بھی کیوں نہیں کہا گیا؟

متعلقہ خبریں۔