
فوٹو: فیس بک
بانی پی ٹی ائی عمران خان نے آڈیالہ جیل میں اپنی فیملی سے ملاقات میں افغان مہاجرین پر بات کرتے ہوے کہا کہ “ان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس پر شرمندہ ہوں ۔وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پنا لئے ہوئے تھے انہیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے۔”
اس کے ساتھ ہی سابق وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوے کہا کہ “خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔”
مزید گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔











