
فائل فوٹو
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے زیر صدارت جمعے کے روز صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تیراہ واقعے میں زخمی افراد کے لیے فی کس 25 لاکھ روپے کے معاوضے سمیت دیگر اہم شعبوں کی ترقی کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دی گئی۔
خیبر پختونخوا کابینہ میں ہونے والے دیگر اہم فیصلوں کی تفصیلات درج ذیل ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے ججز کے لیے دو بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری۔
محکمہ تعلیم میں اساتذہ کے لیے ای ٹرانسفر پالیسی کی منظوری۔
ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی سیڈ منی کے لیے تین سو ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کے منظوری۔
ارگن ڈونر مرحوم جواد خان کی اہل خانہ کو عمرہ پر بھیجنے کے لیے 21 لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری۔
انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے لیے نامزدگی۔
دو اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ایم ٹی آئی بنوں تبادلے کی منظوری۔
احساس روزگار پروگرام کے لیے فنڈز کی اجرا۔
خیبر میں باڑہ ریوز کینال سسٹم کی بہتری کے لیے فنڈز کی منظوری۔
خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال پشاور کے لیے 2130.165 ملین اور جمرود میں ہیلتھ سائنسز انسٹیٹیوٹ کے لیے 454.156 ملین فنڈ کی منظوری۔
ویکسینیٹرز کے لیے 253.160 ملین فنڈ کی منظوری۔
میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن کی پالیسی بورڈ کے لیے 60 ملین اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے لیے 1573.84 ملین فنڈ کی منظوری۔
ٹرائبل میڈیکل کالج کے قیام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی اور ایک کینسر کے مریض کے علاج کے لیے 10 ملین گرانٹ کی منظوری۔
260 فیملی ویلفیئر سنٹرز کے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری۔
انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بورڈ کو 200 ملین کی ایک بار گرانٹ کی منظوری ۔
دو زرعی تحقیقاتی اداروں کو سینٹر آف ایکسیلنس میں اپ گریڈ کرنے کے لیے پراجیکٹ فنڈ میں اضافے کی منظوری۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ سال 2026- 27 کی ترقیاتی منصوبوں کی سفارشات فروری کے واسط تک پیش کیے جائیں۔









