
فوٹو : سوشل میڈیا
پشاور ( ایل ایس نیوز ) امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے گزشتہ روز اپنے ایک خطاب میں بانی پی ٹی ائی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کہ زبانوں پر تالے پڑھ گئے ہیں کہ یہ حماس کی حمایت نہیں کرتے، نہ ہی فلسطینیوں کے لیے احتجاج کرتے ہے۔
حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب لائنوں میں لگے ہوئے ہے کہ ہم پر ٹرمپ کا ہاتھ ائے اور ہم اقتدار میں ائیں۔ کہا جو اقتدار سے نکالے گئے ہے وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف حافظ نعیم الرحمٰن کے اس بیان کو مضحکہ خیز ،بدنیتی پر مبنی اور اسٹبلیشمنٹ کی خوشنودی قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ حافظ نعیم جیل میں قیدایک عوامی لیڈر کے ایمان، غیرت اور جذبۂ فلسطین پر تبصرہ کر رہے ہیں یہ ان کی سیاسی بدنیتی اور فکری غلامی کی انتہا ہے ۔
پی ٹی آئی کے مرکزی شعبۂ ا اطلاعات نے حافظ نعیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو سینیٹر مشتاق کی لیے بولنے کی اجازت نہیں ملی؟
جو اسرائیلی قید میں ہیں، ان کے لیے آپ کی زبان کیوں بند ہے ؟
کیا ان کہ حق میں آواز اٹھانے کے لیے ہدایات موصول نہیں ہوئیں؟
نوز شریف کی خاموشی پر بھی کبھی سوال کر لیجیے یا وہ موضوع اجازت نامے سے باہر ہے؟
پی ٹی آئی کا مذید کہنا تھا کہ ریموٹ کنٹرول سیاستدان کب، کہا اور کس کہ اشارے پر بولتے ہیں، لہذا حافظ نعیم اداروں کی خدمت جاری رکھیں ۔











