
فوٹو: سوشل میڈیا
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں نئے صوبوں کے متعلق مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی کسی بھی نئے صوبے کی مصنوعی، انتظامی تقسیم یا لسانی لہجوں کی بنیاد پر بننے والی ہر کوشش کو مسترد کرتی ہے۔ ہمارا دیرینہ مطالبہ ایک متحدہ پشتون صوبہ ہے جو تمام مربوط پشتون اکثریتی خطوں پر مشتمل ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامی ناکامی کا حل صوبوں کی تقسیم نہیں، بلکہ بااختیار اور مستقل بلدیاتی نظام ہے۔ پشتون علاقوں کو کسی بھی غیر فطری تقسیم کے ذریعے الگ کرنا وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہزارہ میں بولی جانے والی زبانوں اور ثقافتی تنوع کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم لسانی فرق بذاتِ خود کوئی الگ قومی شناخت نہیں بناتا۔
اگر کسی علاقے میں کوئی تاریخی قوم اپنی واضح اور جمہوری خواہش کے ساتھ الگ صوبے کا مطالبہ کرے تو اے این پی اس حق کی حمایت کرے گی۔ تاہم سیاسی گروہ بندیوں، انتظامی سہولت یا لسانی لہجوں کی بنیاد پر صوبے بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
اے این پی کا واضح مؤقف ہے کہ نئے صوبے قوموں کی بنیاد پر بننے چاہئیں۔ ایک متحد پشتون صوبہ پشتون قوم کی صحیح نمائندگی اور وفاق کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔











