ایمل ولی کی سینیٹ تقریر پر پروپیگنڈا افسوسناک ، سیکیورٹی واپس لینا صوبائی خود مختاری پر حملہ ، میاں افتخار حسین

فوٹو: ایل ایس نیوز

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس ایمل ولی خان کی سینیٹ تقریر کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ، ہم صرف پارلیمان اور صوبائی خود مختاری کے حامی ہے ۔

‎میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایمل ولی کی سینیٹ تقریر جماعت کے متفقہ فیصلے کے تحت کی گئی تھی ، جس میں معدنیات اور وسائل سے متعلق آئینی سوالات اٹھائے گئے ، وسائل اور معدنیات پر سینیٹ میں بات کرنا کوئی غیر آئینی عمل نہیں ۔

‎انہون نے الزام لگایا کہ آرمی چیف کی بریف کیس میں امریکہ کو معدنیات دینے کے بعد سینیٹ میں ایمل ولی کی ان پر تنقید کے بعد چار روز کے بعد ایک حواری کو لاکر بے بنیاد باتیں کرائی گئی ، ان کے مطابق میڈیا پر پراپیگنڈا اور ایمل ولی خان کی سیکیورٹی واپس لینا انتہائی خطرناک اقدام ہے ۔

‎اے این پی رہنماء نے عسکری قیادت سے متعلق شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ایمل ولی کے خلاف کاروائی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد صوبائی خودمختاری اور اٹھارویں ترمیم کو کمزور کرنا ہے ۔

‎پریس کانفرنس میں کہا کہ آئین کو کچھ لوگ کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہیں اور وہی لوگ دوسروں کو کہتے ہیں کہ ” آپ کی کیا حیثیت ہیں ؟” انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا ” یہاں لوگ آئین کو توڑ کر ملک پر قبضہ کرلیتے ہیں ، مگر یہی لوگ ایمل ولی کی ایک بنگلے پر اعتراض کرتے ہیں جو اجازت سے ملا ہے ۔

‎میاں افتخار حسین نے اعلان کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی 15 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر عظیم الشان جلسہ کرے گی ، جس میں مائن اینڈ منرلز بل اور صوبائی حقوق کے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں۔