فوٹو: سوشل میڈیا
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے ایمان مزاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ، کہ آپ کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے اور کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ، جس کے بعد چیف جسٹس کے رویے کی کئی بارز ایسوسی ایشنز نے مذمت کی اور کہا یہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ۔
ماہرنگ بلوچ کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کے کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” اگر میں اس کیس میں آرڈر پاس کردوں تو مس مزاری باہر جاکر کہیں گی کہ ڈکٹیٹر بیٹھا ہے ، آپ کو اپنا منہ بند رکھنی چاہیے ، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ، سرفراز ڈوگر نے ہادی علی چھٹہ کو کہا کہ اپنی بیوی کو سمجھائیں اسے کسی دن میں نے پکڑ لیا نا ۔ جواب میں ایمان مزاری نے کہا اگر عدالتیں وکلاء کو دھمکیاں دینے پر آگئیں تو کرلیں توہین عدالت ۔
پشاور ، کراچی ، لاہور اور بلوچستان بارز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس کی ایمان مزاری کے ساتھ اس سلوک کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ اہم منصب پر تعینات ہونے کے باوجود اس قسم کا رویہ عدلیہ کے وقار کے منافی ہے اور ججز کا آمرانہ رویہ کوڈ آف کنڈکٹ کے صریحاً خلاف ورزی ہے ، لاہور بار ایسوسی ایشن نے اعلامیے میں کہا اگر وکلاء کو ہراساں کئے جانے کا عمل نہ روکا گیا تو بار مزید اقدام پر مجبور ہوگی اور کسی صورت یہ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔
یاد رہے کہ متنازعہ ریمارکس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے وضاحتی بیان میں بتایا ایمان مزاری میری بیٹیوں کی طرح ہے میری بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ، ایمان مزاری نے اپنا ایکس پر لکھا کہ نہ میں ان کی بیٹی ہوں اور نہ ہی بچی بلکہ ایک پروفیشنل وکیل ہوں ۔
ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے چیف جسٹس کے کورٹ روم 1 کے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرادی ۔










