
فوٹو: سوشل میڈیا
سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس کے دوران اپنی فیملی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ایف آئی اے کی ٹیم نے ریاست مخالف ٹویٹس اور دیگر چیزوں کے بارے میں سوال کئے ، ساتھ ہی انہوں نے پشاور جلسے میں ملک بھر سے شرکت پر لوگوں کو خراج تحسین پیش کی اور کہا کہ جبر کے ماحول میں نکلنا خوش آئیند ہے ۔
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے ٹیم نے پہلا سوال کیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ” اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں ۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیر اعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں ۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہوگی ۔ مجھے اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤ اور اس سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا ۔
دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں ؟
میرا جواب تھا کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر خصوصاً قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا ۔ اور ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ۔
تیسرا سوال کیا گیا کہ عاصم لاء کیا ہے ؟
میرا جواب تھا کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے ، اور یہ کوئی پروپیگنڈا نہیں زمینی حقائق پر مبنی بات ہے ۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا ۔ اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کرکے ان چوروں کو ملک پر مسلط کیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں خود مجھے آئی ایس آئی سناتی تھی ۔ اور فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ضمیر فروش ججز کو لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی ۔
چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتے ہوں ؟
میں نے جواب دیا کہ مجیب الرحمٰن اور یحییٰ خان کے بارے میں جو بات کہتا ہوں وہ حمود الرحمن کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحییٰ خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمٰن کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کردیا ۔ آج کل وہی ہورہا ہے جو یحییٰ خان نے 1971 میں کیا اور وہی سب عاصم منیر بھی کررہا ہے جس سے ملک میں قانون و آئین کی جنازہ اٹھ چکا ہے ۔
پانچواں سوال کیا گیا کہ میں کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہورہا ہے ؟
اس کا جواب ہے کہ باقی قیدیوں کے برعکس میرے کمرے کا دروازہ تک نہیں کھولا جاتا ، کسی کو مجھ سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں کئی کئی روز تک بجلی ، اخبار اور ملاقات بند کردی جاتی ہے ۔ جب چھبیسویں آئینی ترمیم مسلط کی جارہی تھی تب تو مجھے مسلسل تین ہفتوں کے لیے مجھے ایک چھوٹے سے کمرے میں قید تنہائی میں رکھا ۔ ذہنی تشدد اور کیا ہوتا ہے ۔
عمران خان نے کرکٹ کے حوالےسے بات کی اور کہا کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے ۔ جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو ۔ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے کرکٹ کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے ۔
انہوں نے اپنی پارٹی اور قوم کے لئے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “تیاری پکڑیں” ۔
پشاور جلسے کی کال پر خیبرپختونخوا کے علاوہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کا اس جبر کے ماحول میں نکلنا خوش آئیند ہے ۔










